کلبرگی،16؍ فروری (ایس او نیوز) حجا ب اور زعفرانی اسکارف وغیرہ سے متعلق تنازعہ کے سبب کلبرگی میں بھی گزشتہ تین دنوں تک اسکول کو تعطیل دینے کے بعد پیر کے دن اسکول دوبارہ کھول دئے گئے۔
پولیس نے کسی بھی قسم کے پرتشدد واقعات کو روکنے کے لئے ضلع بھر میں بہترین انتظام کیا تھا۔ تمام پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں واقعہ عوامی نمائندوں اور لیڈروں سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ امن وامان میں خلل ڈالے بغیر قانون کا احترام کریں اور امن برقرار رکھیں۔
پولیس کمشنر وائی ایس روی کمار نے تمام احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کردی تھی۔ سوشیل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے کے بارے میں بھی وارننگ دی گئی تھی۔ اب حجاب و زعفرانی اسکارف وغیرہ کا یہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے اس وقت تک ضلع انتظامیہ نے طلبا سے کہا ہے کہ وہ اپنے اسکول اور کالجوں کو یونیفارم پہن کر جائیں۔
کلبرگی شہر کے ایک اردو اسکول میں طالبات کے ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حجاب پہن کر اسکول آنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ معلو ہوا ہے کہ قدیم جیورگی روڈ کلبرگی میں واقع اردو اسکول میں 10 سے زیادہ طالبات 14 ؍ فروری کو حجاب پہنچ کر اسکو ل کے کلاس روم میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس وقت میڈیا کے وہاں آجانے پر اساتذہ بھی جمع ہوئے اساتذہ نے طالبات سے کہا کہ وہ اپنا حجاب نکال دیں۔ اساتذہ کی ہدایت پر طالبات نے اپنا حجاب نکال دیا اور امتحانی پرچے لکھے۔ معلوم ہوا ہے کہ ان طالبات کا تعلق دیہاتوں سے ہے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ تک طالبات کو حجاب پہننے یا زعفرانی پٹیاں پہننے پر پابندی لگادی ہے۔ جب یہ بات اسکول کے اساتذہ کے علم میں آئی تو انہوں نے لڑکیوں سے حجاب نکالنے کے لئے کہا اور اس ہدایت کی تمام طالبات نے تعمیل کی۔
اسکول کے ٹیچر شیوانند کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا دیہات کی لڑکیاں چونکہ ہائی کورٹ کے حکم سے واقف نہیں تھیں لہٰذا اس طرح انہوں نے ہدایت ملنے پر اپنا حجاب نکال دیا اور اس طرح ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کی خلاف ورزی نہیں کی۔